ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 66

بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾
بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں گم ہو گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں۔ En
بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں
En
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

66۔ بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں، بلکہ یہ اس کی نسبت شک میں ہیں بلکہ یہ اس سے اندھے ہو چکے [73] ہیں۔
[73] یعنی کوئی انسان خواہ کتنے ہی عقل کے گھوڑے دوڑائے یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔ نہ ہی روز آخرت کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ وحی الٰہی پر ایمان لے آئے۔ اس صورت میں اسے آخرت اور اس کے احوال کے متعلق تو یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ مگر قیامت کے وقت کا علم پھر بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ پیغمبر کی دعوت نے انھیں اس شک میں مبتلا ضرور کر دیا ہے اور وہ روز آخرت سے انکار کے باوجود یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ممکن ہے کہ پیغمبر سچ ہی کہہ رہا ہو۔ اس کے باوجود ان لوگوں نے اسی بات کو ترجیح دی کہ اس معاملہ پر غور و فکر کرنا چھوڑ دیا جائے اور ان دلائل و شواہد سے بالکل آنکھیں بند کر لیں۔ جن میں غور و تامل کرنے سے ان کا شک رفع ہو سکتا ہے۔