ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 59

قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾
کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔ کیا اللہ بہتر ہے، یا وہ جنھیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں؟ En
کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (اس کا شریک) ٹھہراتے ہیں
En
تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وه جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ آپ ان سے کہئے کہ: ”سب طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار [57] ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اس نے برگزیدہ [58] کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ اس کا شریک بنا رہے [59] ہیں؟
[57] الحمد للہ کے استعمال کا خاص موقع:۔
ویسے تو ہر حال میں اللہ کی تعریف بیان کرنا چاہئے اور اس کا شکر بجا لانا چاہئے۔ لیکن اہل عرب اس جملہ کا استعمال عموماً اس وقت کرتے ہیں۔ جب فریق مخالف یا مخاطب پر دلائل کے ساتھ اتمام حجت کر دی جائے۔ اور اس کے پاس ان دلائل کا کوئی معقول جواب نہ ہو یا اسے کوئی معقول جواب میسر نہ آئے۔ یہاں بھی تین انبیاء کا ذکر کرنے اور منکرین حق کا ایک ہی جیسا انجام بتلانے کے بعد یہ جملہ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔
[58] برگزیدہ لوگوں سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں جن کے ساتھ ان کے متبعین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ جن کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی، انھیں کافروں کے مظالم سے نجات دلائی اور ان پر نازل کردہ عذاب سے انھیں بچا کر ان پر رحمت فرمائی۔ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے جملہ کا حکم عام ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں پر ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوتی رہتی ہے۔
[59] یعنی اللہ تو وہ ہے جو مجرموں کو سزا دے کر اپنے بندوں کو ان کے مظالم سے بچا لیتا ہے اور ان کی مدد بھی کرتا ہے۔ سوائے مشرکین مکہ یا اب تم خود ہی فیصلہ کر لو کہ ایسی قوتوں والا اللہ بہتر ہے یا تمہارے وہ معبود جو دوسروں کو کوئی فائدہ یا نقصان تو کیا پہنچائیں گے۔ اپنی حفاظت تک کے لئے وہ تمہارے محتاج ہیں۔