ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 48

وَ کَانَ فِی الۡمَدِیۡنَۃِ تِسۡعَۃُ رَہۡطٍ یُّفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا یُصۡلِحُوۡنَ ﴿۴۸﴾
اور اس شہر میں نو(۹) شخص تھے، جو اس سرزمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ En
اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے
En
اس شہر میں نو سردار تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے رہتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

48۔ اور اس شہر میں نو سرغنے [49] تھے جو ملک میں تخریب کاریاں ہی کرتے تھے اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔
[49] قوم ثمود کے نو غنڈہ سرغنے :۔
رھط بمعنی ایک ہی خاندان کے لوگوں کی مختصر سی جماعت جن کی تعداد دس سے کم ہو اور ان میں کوئی عورت نہ ہو۔ نیز اس کے جماعت کے سردار یا سرغنہ کو بھی رھط کہتے ہیں۔ (مفردات) اور یہ لفظ عموماً بڑے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور رھط کی اضافت کسی عدد کی طرف ہو تو اس سے اشخاص مراد لئے جاتے ہیں۔ (منجد) اسی لئے ہم نے رھط کا ترجمہ سرغنہ کیا ہے یعنی کسی اوباش اور بد کردار چھوٹی سی جماعت کا لیڈر۔ قوم ثمود کی معروف بستی کا نام حجر ہے۔ اور اسے ام القریٰ بھی کہتے ہیں یہ مکہ سے شام جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے اسی شہر میں ایسے نو سرغنہ تھے یا بدمعاش ٹائپ چوہدری تھے اور ان سب میں سر کردہ قدار تھا یعنی سب سے بڑا بد بخت اور حرامی یہی قدار ہی تھا جس نے اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں۔ اور باقی آٹھ سرغنے اسی قدار کے ممد و معاون ساتھی تھے۔