45۔ اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ: اللہ کی عبادت کرو۔ تو اسی وقت وہ دو فریق [45] (مومن اور کافر) بن کر جھگڑنے لگے۔
[45] اور یہ معاملہ صرف صالحؑ سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر نبی کی دعوت پر یہی کچھ ہوتا ہے کہ کچھ انصاف پسند، معاشرتی ناہمواریوں سے بیزار اور مظلوم قسم کے انسان نبی کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اور چودھری قسم کے کھاتے پیتے اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ نبی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر ان کی آپس میں ٹھن جاتی ہے اور حق و باطل کے معرکہ کا آغاز ہو جاتا ہے یہی صورت حال قوم ثمود میں بھی رونما ہو گئی تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔