ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 45

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰی ثَمُوۡدَ اَخَاہُمۡ صٰلِحًا اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ فَاِذَا ہُمۡ فَرِیۡقٰنِ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو اچانک وہ دو گروہ ہو کر جھگڑ رہے تھے۔ En
اور ہم نے ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے
En
یقیناً ہم نے ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وه دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

45۔ اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ: اللہ کی عبادت کرو۔ تو اسی وقت وہ دو فریق [45] (مومن اور کافر) بن کر جھگڑنے لگے۔
[45] اور یہ معاملہ صرف صالحؑ سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر نبی کی دعوت پر یہی کچھ ہوتا ہے کہ کچھ انصاف پسند، معاشرتی ناہمواریوں سے بیزار اور مظلوم قسم کے انسان نبی کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں۔ اور چودھری قسم کے کھاتے پیتے اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ نبی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ پھر ان کی آپس میں ٹھن جاتی ہے اور حق و باطل کے معرکہ کا آغاز ہو جاتا ہے یہی صورت حال قوم ثمود میں بھی رونما ہو گئی تھی۔