پھر جب وہ آئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے کہا یہ تو گویا وہی ہے اور ہم اس سے پہلے علم دیے گئے تھے اورہم فرماں بردار تھے۔
En
جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں
پھر جب وه آگئی تو اس سے کہا (دریافت کیا) گیا کہ ایسا ہی تیرا (بھی) تخت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے، ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے
En
42۔ پھر جب ملکہ (مطیع ہو کر) آگئی تو سلیمان نے اس سے پوچھا: کیا تمہارا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟“ وہ کہنے لگی: ”یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے۔ اور ہمیں اس سے پہلے ہی حقیقت حال معلوم ہو گئی تھی اور ہم فرمانبردار [40] ہو گئے تھے۔“
[40] ملکہ سبا کی عقل کا امتحان :۔
بلقیس جب حضرت سلیمان کے دربار میں پہنچی تو اسے تخت دکھا کر پہلا سوال ہی یہ کیا گیا کہ کیا تمہارے پاس بھی ایسا تخت ہے؟ وہ بڑی عقلمند عورت تھی اس نے فوراً پہچان لیا کہ یہ تخت اسی کا ہے۔ البتہ اس میں کچھ تبدیلیاں کر لی گئی ہیں۔ لہٰذا اس نے جواب بھی سوال کے مطابق دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو بالکل ویسا ہی لگتا ہے۔ اگر اس سے یہ سوال کیا جاتا کہ کیا یہ تیرا تخت ہے؟ تب وہ یہ جواب دیتی کہ ہاں یہ میرا ہی تخت ہے۔ اس امتحان سے حضرت سلیمان نے اس کے عقلمند ہونے کا اندازہ کر لیا۔ اس سوال کے بعد جو بات سلیمانؑ اسے سمجھانا چاہتے تھے اس کا اس نے خود ہی اظہار کر دیا اور کہنے لگی۔ یہ عرش کے یہاں لانے کا کام واقعی معجزانہ ہے جو آپ کی نبوت پر دلیل ہے۔ لیکن ہمیں تو اس سے پہلے ہی آپ کے متعلق بہت کچھ معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔ اور آپ کے تابع فرمان بن کر ہی یہاں آئے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔