ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 41

قَالَ نَکِّرُوۡا لَہَا عَرۡشَہَا نَنۡظُرۡ اَتَہۡتَدِیۡۤ اَمۡ تَکُوۡنُ مِنَ الَّذِیۡنَ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۱﴾
کہا اس کا تخت اس کے لیے بے پہچان کر دو، تاکہ ہم دیکھیں کیا وہ راہ پر آتی ہے، یا ان لوگوں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے۔ En
سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔ دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے
En
حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ راه پالیتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو راه نہیں پاتے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ پھر (درباریوں سے) کہا: ”اس کے تخت کا حلیہ [39] تبدیل کر دو۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا ان لوگوں سے ہے جو راہ راست پر نہیں آسکتے“
[39] سیدنا سلیمانؑ کا ملکہ کے تخت کی صورت بدل دینا:۔
یہاں ﴿نَكِّرُوا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ نکر میں جو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔
(1) اجنبیت اور (2) ناگواری، اور تنکیر کی ضد تعریف ہے۔ تعریف کے معنی کسی کو پہچان لینا اور تنکیر کے معنی کسی کو نہ پہچاننا اور اجنبیت محسوس کرنا۔ گویا ﴿نَكِّرُوا کا معنی اس تخت میں ایسی تبدیلی لانا ہے جس سے وہ پوری طرح پہچانا نہ جا سکے اور اس سے حضرت سلیمانؑ بلقیس کی عقل کا امتحان لینا چاہتے تھے کہ اس کی عقل کہاں تک کام کرتی ہے پھر اس سے وہ یہ نتیجہ بھی اخذ کرنا چاہتے تھے کہ آیا وہ اتنی عقلمند ہے کہ شرک اور توحید میں تمیز کر سکے؟ چنانچہ آپ کے کاریگروں نے اس کے تخت میں اتنی تبدیلی کی ایک جگہ کے جواہر وہاں سے اکھاڑ کر کسی دوسرے جگہ فٹ کر دیئے۔