ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 4

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ؕ﴿۴﴾
بے شک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیے ہیں، پس وہ حیران پھرتے ہیں۔ En
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال ان کے لئے آرستہ کردیئے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں
En
جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں ﻻتے ہم نے انہیں ان کے کرتوت زینت دار کر دکھائے ہیں، پس وه بھٹکتے پھرتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے۔ لہذا وہ اندھے [4] بنے پھرتے ہیں۔
[4] یعنی جو اللہ پر تو ایمان رکھتے ہوں مگر روز آخرت پر ایمان نہ رکھتے ہوں وہ اپنا معیار خیر و شر صرف انہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی زندگی کسی اصول کی پابند نہیں ہوتی وہ جس کام میں اپنا ذاتی فائدہ دیکھتے ہیں۔ وہی کام ان کے نزدیک خیر ہے۔ دوسروں کے نفع و نقصان سے انھیں کچھ غرض نہیں ہوتی۔ دنیا میں تمام فسادات روز آخرت اور باز پرس سے انکار یا بھول کی بنا پر واقع ہوتے ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایسے دنیا پر ریجھنے والے لوگوں کو اپنے ایسے ہی خود غرضی پر مبنی اعمال اچھے نظر آنے لگتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو طرز عمل انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہی سب سے اچھا اور بہتر ہے۔