ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 17

وَ حُشِرَ لِسُلَیۡمٰنَ جُنُوۡدُہٗ مِنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ وَ الطَّیۡرِ فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۱۷﴾
اور سلیمان کے لیے اس کے لشکر جمع کیے گئے، جو جنوں اور انسانوں اور پرندوںسے تھے، پھر وہ الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے۔ En
اور سلیمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے
En
سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کیے گئے (ہر ہر قسم کی) الگ الگ درجہ بندی کردی گئی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ اور سلیمان کے لیے (کسی مہم کے سلسلہ میں) اس کے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور ان کی جماعت [18] بندی کر دی گئی تھی۔
[18] سیدنا سلیمانؑ کا لشکر انسانوں جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھا:۔
یہ دراصل سابقہ آیت میں ﴿كُلِّ شَيْءٍ کی تفصیل ہے۔ یعنی آپ کا لشکر تین انواع پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس میں انسان بھی شامل تھے، جن بھی اور پرندے بھی اور ان سے آپ مختلف قسم کے کام لیتے تھے اور یہ لشکر ملا جلا نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ جب آپ کسی مہم پر جاتے تو انسانوں کا لشکر الگ، جنوں کا الگ اور پرندوں کا لشکر الگ الگ ساتھ چلتا تھا۔ بھاری اور زیادہ مشقت طلب کام آپ جنوں سے لیتے تھے اور پیغام رسانی، سراغ رسانی اور پانی وغیرہ کی تاش کا کام آپ پرندوں سے لیتے تھے۔ نیز بعض دفعہ پرندوں کے جھنڈ سے لشکر پر سایہ کرنے کا کام بھی لیا جاتا تھا۔ جو لوگ معجزات اور خرق عادت امور سے گھٹن محسوس کرتے ہیں اور ایسے واقعات کی تاویلات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کی تاویلات کے مطابق یہاں جن سے مراد جفا کش دیہاتی لوگ ہیں۔ اور الطیر سے وہ طیارے مراد لیتے ہیں۔ یعنی حضرت سلیمانؑ کے پاس ہوائی فوج بھی موجود تھی ایسی تاویلات دراصل تاویلات نہیں بلکہ تحریفات ہیں جن کا قرآن کریم کا سیاق و سباق ساتھ نہیں دیتا ایسی تاویلات کا تجزیہ کرنا یہاں مشکل ہے۔ البتہ ایسی تمام تر تاویلات کا تفصیلاً تجزیہ میں نے اپنی تصنیف ”عقل پرستی اور انکار معجزات“ میں پیش کر دیا ہے۔