ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 12

وَ اَدۡخِلۡ یَدَکَ فِیۡ جَیۡبِکَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَآءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۡٓءٍ ۟ فِیۡ تِسۡعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ قَوۡمِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۱۲﴾
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، کسی عیب کے بغیر (چمکتا ہوا) سفید نکلے گا، نو نشانیوں میں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف۔ بلاشبہ وہ نافرمان لوگ تھے۔ En
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا۔ (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں
En
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، وه سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے، تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جا، یقیناً وه بدکاروں کا گروه ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کرو وہ کسی مرض کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا۔ (یہ دو معجزے) منجملہ ان نو معجزات کے تھے۔ جو فرعون اور اس کی قوم کے لئے (موسیٰ کو دیئے گئے) بلا شبہ [12] وہ بد کردار لوگ تھے۔
[12] پھر اسی مقام پر موسیٰؑ کو ید بیضا کا دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ جس کی تفصیل پہلے مقامات پر گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ یہ دو بڑے بڑے واضح معجزے منجملہ ان نو معجزات کے تھے جن کا ذکر پہلے سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 101 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے گویا ابتداً یہی دو بڑے معجزے عطا کر کے حضرت موسیٰؑ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا کیونکہ فرعونیوں نے اپنے ملک میں فساد عظیم برپا کر رکھا تھا۔