ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النمل (27) — آیت 11

اِلَّا مَنۡ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسۡنًۢا بَعۡدَ سُوۡٓءٍ فَاِنِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۱﴾
مگر جس نے ظلم کیا، پھر برائی کے بعد بدل کر نیکی کی تو بے شک میں بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہوں۔ En
ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں
En
لیکن جو لوگ ﻇلم کریں پھر اس کے عوض نیکی کریں اس برائی کے پیچھے تو میں بھی بخشنے واﻻ مہربان ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ ڈرتا تو وہ ہے جس نے کوئی ظلم کیا ہو پھر اگر اس نے (بھی) برائی کے بعد (اپنے اعمال کو) نیکی [11] سے بدل لیا تو میں یقیناً بخشنے والا مہربان ہوں۔
[11] عصائے موسیٰؑ اور ید بیضاء اور دوسرے معجزات :۔
ہاں میرے حضور ڈرنے کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ کسی شخص نے فی الواقع ظلم کیا ہو۔ اور ظالموں کو واقعی ڈرنا ہی چاہئے لیکن جو شخص ظلم کے بعد توبہ کر لے برے کاموں کے بعد نیکی کی راہ اختیار کر لے اور اپنا طرز عمل ہی بدل لے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں۔ غالباً اس آیت میں حضرت موسیٰؑ کے اس دور کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ جب آپ سے ایک قبطی نا دانستہ طور پر مارا گیا تھا۔ پھر آپ وہاں سے مفرور ہو کر مدین میں حضرت شعیب کے پاس آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ کہہ کر اس قصور کی معافی کی بھی بشارت سنا دی۔