ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 84

وَ اجۡعَلۡ لِّیۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ ﴿ۙ۸۴﴾
اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔
اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر
اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

84۔ اور پچھلے لوگوں میں مجھے سچی ناموری [60] عطا کر۔
[60] یعنی اس دنیا میں، میں ایسے اچھے کام کر سکوں کہ بعد میں آنے والے لوگ میرا ذکر اچھے الفاظ میں کیا کریں۔ حضرت ابراہیمؑ کی یہ دعا حرف بحرف قبول ہو گئی۔ دنیا کے اکثر اہل مذاہب آپ کو اپنا دینی پیشوا ضرور تسلیم کرتے ہیں۔ اگرچہ حضرت ابراہیمؑ کی تعلیم سے بہت سی باتوں میں منحرف ہو چکے ہیں۔ اسلام نے از سر نو دین ابراہیمی کو زندہ کیا۔ اور ہر نماز میں دورد کو واجب قرار دے کر آپ کا ذکر خیر بھی جاری کیا۔ مگر افسوس ہے کہ دوسرے مذاہب کی طرح مسلمان بھی خالص دین ابراہیمی سے ہٹ چکے ہیں۔ اور اپنے دین میں شرکت کی آمیزش کر لی ہے۔