ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 83

رَبِّ ہَبۡ لِیۡ حُکۡمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾
اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔
اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر
اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ (اس کے بعد ابراہیم نے دعا کی کہ) پروردگار! مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے صالح لوگوں میں شامل [59] کر دے۔
[59] اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا صفات بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہو جاتے ہیں۔ پہلی دعا یہ ہے کہ یا اللہ مجھے صحیح قوت فیصلہ اور دینی بصیرت عطا فرما اور میرے علم میں اضافہ کر اور مجھے نیک لوگوں کی سوسائٹی عطا فرما۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ایک نیک بخت اور نیک سیرت انسان اگر کسی بری سوسائٹی میں پھنس جائے تو اسے جتنی تکلیف اور ذہنی کوفت ہوتی ہے، اسے سب جانتے ہیں۔ لہٰذا ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اسے نیک لوگوں کی صحبت حاصل ہو۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ یقیناً نیک لوگوں کو نیک لوگوں سے ہی ملا دے گا۔ تاہم اس نعمت کے لئے دست بدعا رہنا چاہئے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بھی ایسی دعا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی وفات کے ساتھ یہ دعا فرمائی تھی۔ ﴿اللهم الرفيق الاعلي﴾