83۔ (اس کے بعد ابراہیم نے دعا کی کہ) پروردگار! مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے صالح لوگوں میں شامل [59] کر دے۔
[59] اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا صفات بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہو جاتے ہیں۔ پہلی دعا یہ ہے کہ یا اللہ مجھے صحیح قوت فیصلہ اور دینی بصیرت عطا فرما اور میرے علم میں اضافہ کر اور مجھے نیک لوگوں کی سوسائٹی عطا فرما۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ایک نیک بخت اور نیک سیرت انسان اگر کسی بری سوسائٹی میں پھنس جائے تو اسے جتنی تکلیف اور ذہنی کوفت ہوتی ہے، اسے سب جانتے ہیں۔ لہٰذا ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اسے نیک لوگوں کی صحبت حاصل ہو۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰیقیناً نیک لوگوں کو نیک لوگوں سے ہی ملا دے گا۔ تاہم اس نعمت کے لئے دست بدعا رہنا چاہئے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بھی ایسی دعا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی وفات کے ساتھ یہ دعا فرمائی تھی۔ ﴿اللهم الرفيق الاعلي﴾
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔