ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 82

وَ الَّذِیۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لِیۡ خَطِیۡٓئَتِیۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۸۲﴾
اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔
اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

82۔ اور جس سے میں توقع رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میری خطائیں معاف [58] کر دے گا“
[58] قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب عدالت قائم فرمائے گا تو اس وقت بھی اس کی عدالت، حاکمیت اور فیصلوں میں کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہ ہو گا۔ جس طرح مذکورہ بالا امور میں کسی دوسرے کا کچھ عمل دخل نہیں ہے۔ اور چونکہ میں نے اللہ کی عبادت میں دوسرے کسی کو اس کا شریک نہیں سمجھا لہٰذا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن میری چھوٹی موٹی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما دے گا۔ اس سے یہ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے کہ جس کسی نے اللہ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک بنایا ہو گا اس کی مغفرت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔