موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے نہ کسی کو مفر ہے اور نہ اس میں کسی کا کچھ اختیار ہے۔ انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوا تھا اور نہ اپنی مرضی سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی دوبارہ زندگی کو روکنے میں بھی مجبور محض ہے۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کرنے کے کرشمے دکھاتا رہتا ہے۔ لہٰذا دوبارہ پیدائش سے انکار کی معقول وجہ نہیں ہو سکتی۔ اور یہ ایسے کام ہیں۔ جن میں اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پھر اللہ کی عبادت میں آخر دوسروں کو کیوں شریک بنایا جا سکتا ہے۔ یا دوسروں کو عبادت کے لائق کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔