80۔ اور جب میں بیمار [56] پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
[56] حضرت ابراہیمؑ نے بیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنی طرف فرمائی تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اپنی کسر نفسی کی بنا پر ایسا کہا۔ ورنہ بیماری اور شفا سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ اب بیماری اور شفا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر جاندار کی طبیعت ہی اس کی سب سے بڑی معالج ہوتی ہے۔ بدن میں کسی مقام پر بھی کوئی نقص واقع ہو جائے تو طبیعت فوراً ادھر متوجہ ہو جاتی ہے۔ باہر سے کوئی آفت پڑنے کا خطرہ ہو تو ہر جاندار سے بلا ارادہ ایسی حرکات سرزد ہونے لگتی ہیں۔ جو اس کی اس آفت سے حفاظت کر سکیں اور دوائی کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب طبیعت کی مدافعت سے معاملہ بڑھ جائے اور دوائی کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ طبیعت کا مدد کرتی ہے ورنہ اصل معالج طبیعت ہی ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہی بنائی ہے علاوہ ازیں دواؤں میں تاثیر اور خاصیت بھی اللہ کی پیدا کردہ ہے پھر کبھی دوا اپنا اثر دکھاتی ہے کبھی بے اثر ثابت ہوتی ہے اور کبھی الٹا اثر دکھاتی ہے اسی لئے کوئی حکیم یا ڈاکٹر یہ بات دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ فلاں مرض کا علاج کر کے شفا دے سکتا ہے۔ بلکہ ہر شخص اس معاملہ میں اپنے عجز کا اعتراف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ شفا من جانب اللہ ہوتی ہے۔ پھر جب شفا بخشنے میں اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کا دخل نہیں تو عبادت میں اللہ تعالیٰ کی سوا کوئی دوسرا کیسے شریک بنایا جا سکتا ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔