ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 8

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕوَ مَا کَانَ اَکۡثَرُ ہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸﴾
بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ En
کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں
En
بے شک اس میں یقیناً نشانی ہے اور ان میں کے اکثر لوگ مومن نہیں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

یقیناً اس میں ایک نشانی [6] ہے لیکن ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں
[6] نباتات میں اللہ کی نشانیاں :۔
اگر کسی معجزہ کی بات ہے تو یہ کیا کم معجزہ ہے کہ ایک ہی زمین میں، ایک ہی جیسا آسمان سے پانی برستا ہے۔ ایک ہی سورج سے نباتات کی نشو و نما ہوتی ہے۔ لیکن نباتات ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہزارہا قسم کی نباتات ہوتی ہے۔ کہیں رنگ برنگ کے پھول کھل رہے ہیں، کہیں لہلہاتی کھیتیاں ہیں۔ ان کی خوشبوؤں سے زمین مہک اٹھتی ہے۔ پھر اس نباتات اور وہاں کے باشندوں کی ضروریات میں ایک خاص مناسبت ہے۔ نباتات کی بے شمار انواع و اقسام کے باوجود یہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے تحت ہی اگتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہیں اور اس میں ایک خاص نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ غرضیکہ نباتات میں غور و فکر کا اتنا وسیع میدان موجود ہے کہ یہ علم کی ایک شاخ بن چکا ہے۔ اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے قدرت کے نئے سے نئے عجائبات پیش کرتا رہتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ان عجائبات کی طرف توجہ ہی نہ کرے تو اسے اللہ کی کوئی نشانی نظر بھی کیسے آسکتی ہے؟