73۔ یا تمہیں کچھ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے [50] ہیں؟“
[50] حضرت ابراہیمؑ کا اگلا سوال یہ تھا کہ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ کوئی جواب دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہو سکتا تھا۔ بھلا پتھر کے خود ساختہ بتوں کا سننے یا سن کر جواب دینے سے کیا کام؟ حضرت ابراہیمؑ نے اگلا سوال یہ کیا کہ یہ بت تمہارا کچھ سنوار یا بگاڑ سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہی ہو سکتا تھا بھلا جو بت اپنے وجود، اپنی حفاظت اور اپنے وجود کی بقا تک کے لئے اپنے عقیدت مندوں کے محتاج ہوں۔ یہ سنتے ہوں نہ بولتے ہوں۔ وہ اپنے عقیدت مندوں کو کون سی حاجت پوری کر سکتے ہیں یا ان کی کوئی تکلیف رفع کر سکتے ہیں؟
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔