63۔ چنانچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ: ”اپنا عصا سمندر پر مارو“ چنانچہ سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ایک حصہ [44] ایک بڑے پہاڑ کی طرح (ساکن و جامد) ہو گیا۔
[44] عصا مارنے سے سمندر میں بارہ راستے بن جانا:۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے بموجب وحی الٰہی جب اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ دو حصوں میں بٹ گیا اور درمیان میں کافی کشادہ راستہ بن گیا۔ اور راستہ خشک بھی فوراً ہو گیا۔ نیچے دلدلی زمین نہیں تھی۔ ایک طرف کا پانی بھی ساکن جامد پہاڑ کی طرح کھڑا کا کھڑا رہ گیا اور دوسری طرف کا بھی۔ لیکن مفسرین کی نقل کردہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خشک راستہ نہیں بلکہ بارہ راستے بنے تھے اور ﴿كُلُّفِرْقٍ﴾ کے الفاظ بھی ان روایات کی تائید کرتے ہیں کیونکہ کل کا لفظ دو کے لئے نہیں آتا۔ روایات کے مطابق سمندر میں بارہ راستے بنے تھے اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے تقریباً بارہ ہزار افراد تھے جو ہجرت کر کے آئے تھے اس لحاظ سے ان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار بنتی ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔ جبکہ فرعون کے لشکر کی تعداد اس سے بہت زیادہ تھی۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔