61۔ پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ کے ساتھی [42] چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔
[42] فرعون کی بدحواسی :۔
فرعون کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو وہ بنی اسرائیل کو ایک مٹھی بھر اور کمزور سی جماعت قرار دے رہا تھا دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مسلح لشکر کی تیاری کا حکم دے رہا تھا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو یقین تھا کہ بنی اسرائیل محض ایک کمزور سی اور مٹھی بھر جماعت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ان کے شامل حال ہے۔ لہٰذا اس نے ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تیار ہونے میں خواہ مخواہ کچھ عرصہ لگ گیا۔ فرعون کے اس لشکر نے بالآخر بنی اسرائیل کو بحیرہ قلزم کے کنارے پر جا پکڑا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ دونوں لشکروں میں صرف اتنا فاصلہ رہ گیا تھا کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پر کھڑے تھے۔ پیچھے سے فرعون کا لشکر تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ان کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ بنی اسرائیل جو فرعون سے پہلے ہی سخت خوف زدہ تھے یہ صورت حال دیکھ کر سخت گھبرا گئے۔ آگے سمندر تھا پیچھے فرعون کا لشکر، دونوں طرف موت ہی موت کھڑی نظر آ رہی تھی۔ لہٰذا ان کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکل گئے، موسیٰ اب تو ہم مارے گئے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔