ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 59

کَذٰلِکَ ؕ وَ اَوۡرَثۡنٰہَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾
ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔
(ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کر دیا
اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا وارث [41] بنا دیا۔
[41] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مصر میں بھی رہ گئے تھے سارے کے سارے حضرت موسیٰؑ کے ہمراہ روانہ نہیں ہوئے تھے۔ جب فرعون اور اس کے جملہ اعیان سلطنت غرق ہو کر ہلاک ہو گئے تھے۔ تو ساتھ ہی آل فرعون کا اقتدار بھی ختم ہو گیا تھا اور یہی پیچھے رہنے والے بنی اسرائیل ان کے محلوں اور باغات پر قابض ہو گئے تھے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل مصر کے کچھ حصہ پر قابض ہوئے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہو۔ جب حضرت سلیمانؑ کی حکومت مصر تک پھیل گئی اور بنی اسرائیل ہی فرعونیوں کے محلات اور باغات پر قابض ہو گئے تھے۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾