ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 4

اِنۡ نَّشَاۡ نُنَزِّلۡ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتۡ اَعۡنَاقُہُمۡ لَہَا خٰضِعِیۡنَ ﴿۴﴾
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، پھر اس کے سامنے ان کی گردنیں نیچی ہو جائیں۔ En
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں
En
اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں خم ہو جاتیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی معجزہ اتار دیتے جس کے آگے ان کی گردنیں جھک جاتیں [3]۔
[3] جبری ایمان اللہ کو مطلوب نہیں:۔
اگر ان کا ایمان لانا ہی مطلوب و مقصود ہوتا تو یہ کام یوں بھی ہو سکتا تھا کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نازل کر دیتے۔ جس کی بنا پر یہ ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے۔ مگر یہ بات ہماری مشیت کے خلاف ہے۔ ایسا جبری ایمان لانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہمیں مطلوب ہے۔ مطلوب تو یہ ہے کہ انہیں راہ ہدایت سمجھا دینے کے بعد کون شخص اپنی عقل و تمیز کو کام میں لا کر اور اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لاتا ہے۔ اور یہی چیز انسان کی پیدائش کا مقصود اصلی ہے ورنہ اللہ انسان کو بھی دوسری مخلوق کی طرح پیدا کر سکتا تھا۔ جو اللہ کے سامنے ہر حال میں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔