ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 39

وَّ قِیۡلَ لِلنَّاسِ ہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّجۡتَمِعُوۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
اور لوگوں سے کہا گیا کیا تم جمع ہونے والے ہو؟
اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے
اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہوجاؤ گے؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور لوگوں سے پوچھا گیا: ”کیا تم بھی اس اجتماع [30] میں شامل ہو گے؟
[30] مقابلہ کے لیے جگہ اور وقت کی تعیین :۔
جادوگری کے اس مقابلہ کے لیے حضرت موسیٰؑ فوراً تیار ہو گئے۔ وقت کا تعین ابھی باقی تھا۔ موسیٰؑ نے خود ہی یہ تجویز کی کہ یہ مقابلہ بھرے مجمع میں ہونا چاہئے۔ اور اس کے لئے ان کے قومی میلہ یا جشن نو روز کا دن سب سے مناسب تھا۔ جبکہ اردگرد کے لوگ بھی اس قومی میلہ میں شرکت کے لئے دار الخلافہ جیسے بڑے شہر میں از خود پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس مقابلہ کے لئے چاشت کا وقت تجویز ہوا تاکہ اس وقت تک ارد گرد کے سب لوگ بھی دار الخلافہ میں پہنچ سکیں۔ اور وقت بھی ایسا مناسب تجویز ہوا جس میں سورج کی روشنی پوری طرح کھل جاتی ہے اور دھوپ میں ابھی گرمی کی شدت بھی نہیں ہوتی۔ جب مقابلہ کے وقت کی تعیین ہو گئی تو فرعون نے اپنے درباریوں سے اس انداز میں سوال کیا جیسے اس کی خوشی اسی بات میں تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس اجتماع میں شریک ہوں۔