ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذۡتَ اِلٰـہًا غَیۡرِیۡ لَاَجۡعَلَنَّکَ مِنَ الۡمَسۡجُوۡنِیۡنَ ﴿۲۹﴾
کہا یقینا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے ضرور ہی قید کیے ہوئے لوگوں میں شامل کر دوں گا۔
(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا
فرعون کہنے لگا سن لے! اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ فرعون بولا: ”دیکھو! اگر تم نے میرے سوا کوئی اور الٰہ مانا تو میں تجھے قید [22] میں ڈال دوں گا
[22] فرعون کے خدائی کے دعویٰ کی نوعیت کیا تھی؟
دنیا میں جتنے بھی مشرکین یا خدائی کے دعوے دار گزار ہیں۔ وہ سب یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرعون کا بھی یہی حال تھا وہ خدائی کا دعویدار صرف ان معنوں میں تھا کہ وہ اپنے سیاسی اقتدار میں کسی بالاتر ہستی کی مداخلت کا قائل نہ تھا۔ بالفاظ دیگر وہ اللہ تعالیٰ کے اس پوری کائنات کے خالق و مالک ہونے کا تو قائل تھا مگر اس کی قانونی یا سیاسی حاکمیت کا قائل نہ تھا۔ اور اپنی مملکت میں اپنے قانون کو ہی بالا تر قانون سمجھتا تھا۔ اور اپنی رعیت کو بھی اسی راستے پر لگائے ہوئے تھا۔ اور موسیٰؑ نے اس سے جو مطالبہ کیا تھا وہ براہ راست اس کے قانونی اور سیاسی اختیارات پر حملہ تھا۔ لہٰذا اس نے حضرت موسیٰؑ اور ان کے بھائی کو حکومت کے باغی قرار دیتے ہوئے یہ دھمکی دی کہ اگر تم اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے تو میں تمہیں ملکی قانون بغاوت کے جرم میں قید میں ڈال دوں گا۔