مگر وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے اور اللہ کو بہت یاد کیا اور انتقام لیا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔
مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں
سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا، جنہوں نے ﻇلم کیا ہے وه بھی ابھی جان لیں گے کہ کس کروٹ الٹتے ہیں
227۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہے۔ اور جب ان پر ظلم ہوا تو انہوں نے بدلہ لے لیا [137] اور عنقریب ان ظالموں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس (برے) انجام سے دو چار [138] ہوتے ہیں
[137] کون سے شعراء اس کلیہ سے مستثنیٰ ہیں؟
یعنی جن شعراء کی عام مذمت بیان کی گئی۔ ان میں سے مندرجہ ذیل چار خصائل والے شعراء مستثنیٰ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایمان لائے ہوں۔ دوسرے انہوں نے نیک اعمال کو اپنا طرز زندگی بنا لیا ہو۔ تیسرے اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہتے ہوں۔ کسی وقت بھی ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ چوتھے یہ کہ جو کچھ کہیں ظالموں کے مقابلہ میں حق کی حمایت کے شعر کہیں۔ کسی کی ہجو اپنی ذاتی اغراض کے ماتحت نہ کریں۔ مثلاً اشعار کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں۔ نیکی کی ترغیب دیں۔ کفر کی اور گناہوں کی مذمت بیان کریں یا اگر کافر مسلمانوں یا اسلام یا پیغمبر اسلام کی ہجو بیان کریں۔ تو ہجو کا اسی طرح جواب دے کر اس ظالم کا بدلہ لے لیں۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ قریش نے مسلمانوں کی ہجو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا کہ ان کی ہجو کا جواب دو۔ کیونکہ ہجو قریش کو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ ناگوار ہے۔ پھر عبد اللہ بن رواحہ سے ہجو کرنے کو کہا۔ لیکن ان کی ہجو آپ کو پسند نہ آئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن مالک سے کہا پھر حسان بن ثابت سے ہجو کرنے کا کہا اور ساتھ ہی یہ بتلا دیا کہ ذرا دھیان رکھنا میں بھی قریش سے ہوں۔ حضرت حسان کہنے لگے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کے بھیجا۔ میں آپ کو قریش میں سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان کے حق میں دعا کی یا اللہ اس کی روح القدس سے مدد کر۔ نیز فرمایا حسان! جب تک تو اللہ اور اس کے رسول کے طرف سے جواب دیتا رہے گا روح القدس تیری مدد کرتا رہے گا۔ نیز فرمایا: حسان نے قریش کی ہجو کر کے مومنوں کے دلوں کو تسکین دی اور کافروں کی عزتوں کو تباہ کر دیا۔ [مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل حسان بن ثابت] اس کے بعد حضرت حسان بن ثابتؓ کا طویل قصیدہ مسلم شریف میں مذکور ہے۔ [138] یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کاہن اور شاعر یا ساحر اور مجنون قرار دیتے تھے تاکہ دعوت دین اسلام میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر کے حق کو نیچا دکھلا سکیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔