ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 226

وَ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲۲۶﴾ۙ
اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔
اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں
اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

226۔ اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے [136] نہیں۔
[136] شاعر حضرات کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے قول اور فعل میں نمایاں تضاد ہوتا ہے وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں۔ اور یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کے عین ضد تھی۔ آپ جو تعلیم پیش کرتے تھے سب سے پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوتے تھے پھر ایمان لانے والوں کو اسی تعلیم کا نمونہ بناتے تھے۔ لہٰذا اے مشرکین مکہ! خود ہی اندازہ کر لو کہ اس پیغمبر کے شاعر ہونے کا جو الزام تم لگا رہے ہو وہ کہاں تک درست ہے۔