225۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ (خیالوں کی) ہر وادی میں بھٹکتے [135] پھرتے ہیں
[135] شاعروں کی خصوصیات۔ تخیل ہی تخیل۔ تضاد بیانی اور عملی فقدان :۔
ان دو آیات میں شاعروں کی دو خصلتیں بیان فرمائیں ایک یہ کہ ان کے کلام میں تخیل ہی تخیل اور غلو کی حد تک پہنچا ہوا مبالغہ ہوتا ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی کی تعریف کرنے بیٹھے تو اسے آسمان پر چڑھا دیا کسی کی ہجو پر آئے تو اسے دنیا کی بد ترین مخلوق بنا کر پیش کر دیا۔ پھر اگر کسی سے کچھ انعام و اکرام مل گیا تو اس کی مدح سرائی شروع کر دی۔ کسی کی پگڑی اچھالی۔ کہیں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی اور عشق لگائے بغیر تو کسی شاعر کی شاعری مکمل ہی نہیں ہوتی۔ کہیں محبوبہ سے شکایتیں ہیں، تو کہیں رقیبوں پر برس رہے ہیں، دور از کار استعاروں اور تشبیہات کا استعمال اور اپنی ثنا خوانیاں جن میں حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ غرضیکہ زندگی کا کوئی میدان ایسا نہیں جن میں یہ اپنے تخیل کے گھوڑے نہ دوڑاتے ہوں اور سر نہ پھٹکتے پھرتے ہوں۔ ان کی زندگی کا نہ کوئی متعین مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی اصول کے پابند ہوتے ہیں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔