ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ ﴿۲۲۴﴾ؕ
اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں۔
اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں
شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

224۔ اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ [134] ہی کرتے ہیں۔
[134] کفار مکہ کا ایک الزام یہ بھی تھی کہ آپ(معاذ اللہ) شاعر ہیں۔ اسی نسبت سے یہاں شاعروں اور شاعروں کو داد دینے والوں کے کچھ اوصاف بیان فرما دیئے۔ تاکہ ہر شخص از خود یہ فیصلہ کر لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاعر ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ پھر آپ کے پیرو کاروں کے اوصاف کیسے ہیں۔ اور شاعروں کے پیروکاروں کے کیسے ہوتے ہیں؟ شاعروں کا کام محض گرمی محفل اور وقتی جوش پیدا کرنا ہوتا ہے جس کا مستقل ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور ان کی داد دینے والے بھی ہدایت کی راہ سے بے بہرہ اور بہکے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔