ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 22

وَ تِلۡکَ نِعۡمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنۡ عَبَّدۡتَّ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۲۲﴾
اور یہ کوئی احسان ہے جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ En
اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
En
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ اور جو احسان تو مجھے جتلا رہا ہے (اس کی وجہ تو یہی تھی) کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام [15] بنا رکھا تھا۔
[15] اور تمہاری پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ میری تمہارے ہاں پرورش پانے کا سبب تو یہی چیز بنی تھی کہ تم لوگ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو زندہ نہیں رہنے دیتے تھے۔ اور انہیں ذبح کر ڈالتے تھے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو میری ماں کیوں مجھے تابوت میں بند کر کے سمندر میں ڈالتی۔ پھر وہی تابوت اللہ کی قدرت سے تمہارے پاس پہنچ گیا۔ اگر تم نے بنی اسرائیل پر ایسے مظالم نہ ڈھائے ہوتے تو کیا میرے والدین میری پرورش نہ کر سکتے تھے؟ میری پرورش کے احسان کی آڑ میں اپنے سال ہا سال کے مظالم کو چھپانا چاہتے ہو؟ بنی اسرائیل کو انہیں مظالم اور تمہاری غلامی سے نجات دلانے کے لئے تو اللہ رب العالمین نے مجھے پیغمبر بنا کر تمہارے ہاں بھیجا ہے۔