ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 212

اِنَّہُمۡ عَنِ السَّمۡعِ لَمَعۡزُوۡلُوۡنَ ﴿۲۱۲﴾ؕ
بلاشبہ وہ تو سننے ہی سے الگ کیے ہوئے ہیں۔
وہ (آسمانی باتوں) کے سننے (کے مقامات) سے الگ کر دیئے گئے ہیں
بلکہ وه تو سننے سے بھی محروم کردیے گئے ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

212۔ وہ تو اسے سن پانے سے بھی دور [125] رکھے گئے ہیں
[125] یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام جبریل روح الامین کو دے کر بھیجا جو سیدھے یہ کلام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل ہوئے۔ اب اس راستہ میں کوئی ایسا مقام آتا ہے جہاں سے شیطان اس کلام کا کچھ حصہ سن سکتے ہوں؟ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس مضمون کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ جب یہ کلام نازل کیا جاتا ہے تو اس کے ارد گرد کڑا پہرہ بھی مقرر کیا جاتا ہے جس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں کہیں سے بھی باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی [41: 42] اور دوسرا یہ کہ شیاطین اگر اس کلام کو چوری چھپے سننے کی کوشش کریں تو سن نہیں سکتے بلکہ شہاب ثاقب کے ذریعہ ان کی تواضع کی جاتی ہے۔ [72: 9]