ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 209

ذِکۡرٰی ۟ۛ وَ مَا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۲۰۹﴾
یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہ تھے۔
نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں
نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

209۔ جو انھیں نصیحت کرے اور ہم ظالم [122] نہیں ہیں
[122] اور ہمارا ظلم یا زیادتی تو صرف اس صورت میں شمار ہو سکتا ہے جب ہم کسی قوم پر بغیر خبردار کئے یکدم عذاب نازل کر دیتے جبکہ اصلی صورت حال یہ ہے کہ ہم نے ہر ہر بستی میں انبیاء بھیجے جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کرتے تھے اور لوگ انھیں جھٹلاتے رہے۔ اور نبیوں کو یہ کہہ کہہ کر پریشان کرتے رہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ جلد از جلد لے کیوں نہیں آتے۔ جس سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ عذاب کا وعدہ بھی سراسر جھوٹ اور فریب ہے ان باتوں کے باوجود ہم انھیں سنبھلنے کا موقع دیتے رہے۔ اور ہر ممکن طریقے سے حجت پوری کرنے کے بعد اور انھیں نصیحت کرنے کے بعد ان پر عذاب بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ وہ ہر لحاظ سے عذاب کے مستحق ہو چکے تھے اس میں ہماری کچھ زیادتی نہیں تھی۔