ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
تو کیا وہ ہمارا عذاب ہی جلدی مانگتے ہیں۔
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

204۔ کیا یہ ہمارا عذاب [120] جلد طلب کرتے ہیں۔
[120] یعنی آج انھیں مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پھر جب عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت مہلت کا مطالبہ کریں گے۔ حالانکہ نہ ان کا پہلا مطالبہ درست تھا اور نہ دوسرا درست ہو گا اس لئے کہ عذاب الٰہی کے لئے بھی ایک ضابطہ مقرر ہے اس کا دارو مدار کسی کے مطالبہ کرنے یا نہ کرنے پر نہیں ہے۔ پھر جب معین وقت پر عذاب آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی کے مطالبہ پر مزید مہلت مل سکتی ہے۔