ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 158

فَاَخَذَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۵۸﴾
تو انھیں عذاب نے پکڑ لیا۔ بے شک اس میں یقینا عظیم نشانی ہے اوران کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔
سو ان کو عذاب نے آن پکڑا۔ بےشک اس میں نشانی ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے
اور عذاب نے انہیں آ دبوچا۔ بیشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

158۔ آخر عذاب نے انھیں آلیا [97] اس واقعہ میں بھی ایک نشانی [98] ہے مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
[97] سیدنا صالحؑ پر قاتلانہ حملہ کی سازش :۔
اس بد بخت نے اونٹنی کی کونچیں(پاؤں کی رگیں) تلوار وغیرہ سے حملہ کر کے کاٹ ڈالیں۔ اونٹنی نے ایک زور کی چیخ ماری اور اسی پہاڑ میں جا کر غائب ہو گئی۔ اسی طرح اس کا بچہ بھی اسی پہاڑ میں جا کر غائب ہو گیا۔ اب ان لوگوں کو عذاب کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ جب حالات تشویشناک ہو جائیں تو عموماً انسان کی عقل ماری جاتی ہے۔ اور وہ الٹا سوچنے لگتی ہے۔ چنانچہ ان بد بختوں نے حضرت صالحؑ کو بھی ٹھکانے لگانے کے لئے خفیہ مشورے شروع کر دیئے۔ ان کی عقل نے یہی کام کیا کہ اگر صالح بھی نہ رہے تو شاید عذاب نہیں آئے گا۔ ان حالات کا صالحؑ کو علم ہو گیا تو آپ نے انھیں بحکم الٰہی تین دن کا الٹی میٹم دے دیا کہ تین دن مزے اڑا لو۔ بعد میں تم پر عذاب آجائے گا۔ [11: 65] حضرت صالحؑ پر ایمان لانے والوں کی کل تعداد ایک سو بیس تھی۔ آپ انھیں ساتھ لے کر المدائن کی طرف ہجرت کر گئے اور رملہ کے قریب جا کر آباد ہو گئے۔ اسی مقام پر حضرت صالحؑ نے وفات پائی۔
[98] قوم ثمود پر زلزلہ اور صاعقہ کا عذاب :۔
اس قوم پر زبردست زلزلے کا عذاب آیا۔ جس نے پہاڑوں تک جڑیں ہلا دیں۔ ان میں شگاف پڑ گئے اور پتھر پر پتھر گرنے لگے جس سے ان کے بیشتر مکانات کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے اس دوران بڑی خوفناک اور کانوں کو پھاڑنے والی آوازیں بھی نکلتی تھیں۔ چنانچہ اس دوہرے عذاب سے یہ بد بخت قوم صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دی گئی۔ قوم ثمود کی تباہی بھی اللہ کی سنت کے عین مطابق واقع ہوئی۔ اور اس میں بھی عبرت کے کئی اسباب پوشیدہ ہیں۔ کاش! یہ لوگ اس واقعہ سے ہی سبق حاصل کریں۔ مگر ان لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہے جو ایمان لانے کی طرف نہیں آتی۔