157۔ مگر ان لوگوں [96] نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر (عذاب کے ڈر سے) لگے پچھتانے
[96] لیکن یہ لوگ زیادہ مدت تک اس پابندی کو برداشت نہ کر سکے۔ چوری چھپے باتیں کرتے اور دل ہی دل میں اس پابندی سے کڑھتے رہتے تھے۔ پھر جب ان کے ایمان نہ لانے پر بھی اللہ کا عذاب نہ آیا تو وہ کچھ دلیر ہو گئے۔ ان میں ایک بد کار عورت تھی جس کے بہت سے مویشی تھے اور خاصی مالدار تھی۔ اس نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اس اونٹنی کا قصہ پاک کر دے۔ چنانچہ اب اونٹنی کو مار ڈالنے کے سلسلہ میں خفیہ مشورہ ہونے لگے۔ مویشیوں کے لئے پانی اور چارے کے آدھا رہ جانے کی وجہ سے سب لوگ ہی اس اونٹنی سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ لہٰذا سب نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ چنانچہ وہی بد بخت زانی اس کام کے لئے تیار ہو گیا۔ چنانچہ عبد اللہ بن زمعہؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں حضرت صالحؑ کی اونٹنی کا اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ شخص اپنی قوم میں سب سے زیادہ بد بخت تھا۔ وہ ایک زور آور، شریر اور مضبوط شخص تھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ(زبیر بن عوامؓ کے چچا) کی طرح تھا اور اس کا نام قعار تھا۔ [بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورۃ الشمس]
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔