ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 14

وَ لَہُمۡ عَلَیَّ ذَنۡۢبٌ فَاَخَافُ اَنۡ یَّقۡتُلُوۡنِ ﴿ۚ۱۴﴾
اور ان کا میرے ذمے ایک گناہ ہے، پس میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ En
اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں
En
اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا (دعویٰ) بھی ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وه مجھے مار نہ ڈالیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

14۔ اور میرے ذمہ ان کا ایک جرم (بھی) ہے میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار ہی [10] نہ ڈالیں۔
[10] اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا فرمائی تو ساتھ ہی حکم دیا کہ تمہیں فرعون اور قوم فرعون کے پاس جو اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور ہو چکی ہے۔ جا کر دعوت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ تو حضرت موسیٰؑ کو سابقہ زندگی کے کئی واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے پھر گئے۔ اور کئی قسم کے خطرات سامنے آنے لگے۔ جن میں سر فہرست یہ تھا کہ وہ میری دعوت الی الحق کو کیا اہمیت دے گا۔ جبکہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ جسے اس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خوب دبا کر رکھتا ہے۔ پھر میں اس کا پروردہ بھی ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان کا مجرم بھی ہوں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب اسے اللہ کا پیغام سنانے کا تصور کیا تو سینہ میں گھٹن سی محسوس ہوئی۔ چنانچہ اللہ کے حضور یہ خطرات بیان بھی کر دیئے۔ مگر انکار کی مجال نہ تھی۔ اور یہی اولوالعزم انبیاء کی شان ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے ہوتے ہیں کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی اللہ کا پیغام پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔ البتہ اتنی گزارش ضرور کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما کر میرے ہمراہ کر دیجئے۔ جو اس کام میں میرا معاون و مددگار ہو اور ہم کم از کم ایک کے بجائے دو تو ہو جائیں گے جو ایک دوسرے کے غمگسار اور ہمدرد ہوں۔ علاوہ ازیں میری زبان بھی روانی سے نہیں چلتی۔ جبکہ میرا بھائی ہارون فصیح اللسان ہے۔