ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 137

اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾ۙ
نہیں ہے یہ مگر پہلے لوگوں کی عادت۔
یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں
یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ ایسی باتیں تو یوں ہی ہوتی [86] چلی آئی ہیں۔
[86] اس نصیحت کے جواب میں یہ سرکش قوم کہنے لگی کہ ایسی باتیں تو ہم بھی سنتے چلے آئے ہیں۔ کچھ لوگ نبی بن کر ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا اور مرنے جینے کا سلسلہ ان سے پہلے بھی چلتا تھا۔ بعد میں بھی چلتا رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ لہٰذا تمہاری ایسی نصیحتیں ہمارے لئے بے کار ہیں۔ نہ ہم ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔
بنیاد پرستی کیا ہے؟
امام بخاری نے ﴿خُلُقُ الْأَوَّلِينَ میں خلق سے دین مراد لیا ہے [بخاري۔ كتاب التفسير۔ زير تفسير روم]
اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ تو پرانے لوگوں کا مذہب ہے۔ پرانے لوگ ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر اب ایسے اولڈ فیشن لوگوں کا زمانہ لد چکا۔ موجودہ دور میں ایسے لوگوں کے لئے بنیاد پرست (Fundamental) کی اصطلاح وضع کی گئی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنے عقیدہ و عمل میں اپنے نبی کی تعلیم پر سختی سے عمل پیرا ہوں اور نئی روشنی یا نئی تہذیب کو پرانی جہالت سمجھتے ہوں۔