ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الشعراء (26) — آیت 109

وَ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ۚ
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔
اور اس کام کا تم سے کچھ صلہ نہیں مانگتا۔ میرا صلہ تو خدائے رب العالمین ہی پر ہے
میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

109۔ میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی صلہ نہیں مانگتا [74] میرا صلہ تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔
[74] دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ میں بالکل مخلص اور بے غرض ہو کر تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ نہ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد ہے اور نہ ہی تم سے کسی معاوضہ کا، اجرت کا مطالبہ کرتا ہوں۔ میں جو بات کہتا ہوں بالکل بے لوث ہو کر اور تمہاری بھلائی کی خاطر کہتا ہوں۔ پھر بھی تم میرے درپے آزار بنے ہوئے ہو۔ اس معاملہ میں بھی تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ ظلم و زیادتی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا کرتا۔ اور ایسے بے غرض اور بے لوث آدمی کی بات مان لینا چاہئے۔