ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 75

اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا ﴿ۙ۷۵﴾
یہ لوگ ہیں جنھیں جزا میں بلند و بالا محل عطا کیے جائیں گے، اس لیے کہ انھوں نے صبر کیا اور اس میں ان کا استقبال زندگی کی دعا اور سلام کے ساتھ کیا جائے گا۔ En
ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیئے جائیں گے۔ اور وہاں فرشتے ان سے دعا وسلام کے ساتھ ملاقات کریں گے
En
یہی وه لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و باﻻخانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

75۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر کا بدلہ (بہشت کے) بالا خانوں [93] کی صورت میں پائیں گے، وہاں دعائے حیات اور سلام کے ساتھ ان کا استقبال ہو گا۔
[93] بالا خانہ سے مراد یہ نہیں کہ وہ کسی دو منزلہ عمارت کی اوپر کی منزل میں واقع ہو گا۔ بلکہ اس سے مراد بلند درجوں میں واقع رہائش گاہ ہے اور جنت کے اوپر نیچے سو درجے ہیں۔ یعنی اللہ کے بندوں میں مذکورہ بالا صفات جس حد تک پائی جائیں گی اسی کے مطابق ان کو بلندی درجات اور ان میں سکونت نصیب ہو گی۔ پھر ایسے اللہ کے بندوں کے استقبال کے لئے فرشتے مو جود ہوں گے جو انہیں سلام بھی کہیں گے اور سلامتی کی دعائیں بھی دیں گے۔ جنت میں رہائش پذیر ہو جانے کے بعد ان کی باہمی ملاقاتوں میں یہ ہی کلمات سلام و دعا ان کی تکریم اور عزت افزائی کے لئے استعمال ہوں گے۔