ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 64

وَ الَّذِیۡنَ یَبِیۡتُوۡنَ لِرَبِّہِمۡ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴿۶۴﴾
اور وہ جو اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے رات گزارتے ہیں۔ En
اور جو وہ اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں
En
اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ اور جو اپنے پروردگار کا حضور سجدہ اور قیام میں راتیں [82] گزارتے ہیں
[82] رات کی تنہائی میں اللہ کی یاد اور نماز تہجد:۔
اللہ کے بندوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ راتوں کو بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ بلکہ انہیں رات کو عبادت میں زیادہ مزا آتا ہے۔ اس لئے کہ ایک تو رات کی عبادت میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ دوسرے رات کی تنہائیوں میں بندہ جس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور مناجات کر سکتا ہے دن کو نہیں کر سکتا۔ اسی لئے احادیث میں رات کی عبادت اور بالخصوص نماز تہجد کی بہت فضیلت مذکور ہے۔ نیز حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ان سات آدمیوں میں سے ایک وہ شخص ہو گا جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔“ [بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الصدقۃ بالیمین]