64۔ اور جو اپنے پروردگار کا حضور سجدہ اور قیام میں راتیں [82] گزارتے ہیں
[82] رات کی تنہائی میں اللہ کی یاد اور نماز تہجد:۔
اللہ کے بندوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ راتوں کو بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ بلکہ انہیں رات کو عبادت میں زیادہ مزا آتا ہے۔ اس لئے کہ ایک تو رات کی عبادت میں ریا کا شائبہ نہیں ہوتا۔ دوسرے رات کی تنہائیوں میں بندہ جس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور مناجات کر سکتا ہے دن کو نہیں کر سکتا۔ اسی لئے احادیث میں رات کی عبادت اور بالخصوص نماز تہجد کی بہت فضیلت مذکور ہے۔ نیز حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سات قسم کے آدمیوں کو اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ ان سات آدمیوں میں سے ایک وہ شخص ہو گا جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔“ [بخاری۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب الصدقۃ بالیمین]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔