47۔ اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس، نیند کو آرام اور دن [59] کو جی اٹھنے کا وقت بنایا ہے۔
[59] نیند میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں:۔
اللہ تعالیٰ کا ایک انعام یہ ہے کہ اس نے رات کو تاریک اور ہر چیز کو ڈھانپنے والا بنا دیا۔ تاکہ دن بھر کے تھکے ماندے لوگ رات کو آرام کر سکیں۔ اور آرام کے لئے رات کی تاریکی اور خاموش ماحول بہت ساز گار ہوتا ہے رات کی نیند بھی اللہ کی ایک خاص نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر اس شخص سے پوچھئے جسے رات کو نیند نہ آتی ہو۔ پھر اس نیند میں بھی اللہ تعالیٰ کی کئی نشانیاں ہیں۔ دن بھر کام کرنے سے اور محنت سے جسم کے کچھ خلیے حرارت سے جل جاتے ہیں۔ جب انسان سوتا ہے تو ان جلے ہوئے خلیوں کی جگہ نئے خلیے پیدا ہو جاتے ہیں اور جب یہ عمل پورا ہو چکتا ہے تو انسان کو جاگ آ جاتی ہے اور وہ تازہ دم ہو کر دوسرے دن کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے انسان جس قدر زیادہ تھکا ہوا ہو گا۔ اتنی ہی اسے گہری نیند آئے گی اور تا دیر آئے گی۔ تاکہ اس کے جلے ہوئے خلیوں کی تلافی مافات ہو سکے۔ بعض دفعہ انسان گہری نیند کی علامت کے طور پر خراٹے بھی لیتا ہے یہ اللہ کی ایک اور نشانی ہے اور بعض دفعہ خواب بھی دیکھتا ہے۔ اب اگر خواب کی حقیقت پر غور کرنا شروع کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کے اس محیر العقول کرشمے کی پہنائیوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں کیا کچھ عجائبات سمو دیئے ہیں۔ اس آیت سے سرسری طور پر جو بات ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے اللہ نے کام کاج کے لئے دن اور آرام کے لئے رات بنا لی ہے۔ اب اگر انسان اس کا الٹ کرے گا یعنی رات کو کام اور دن کو آرام کرے گا تو اس کے نتائج انسان کے حق میں بہتر نہیں ہو سکتے اور اس کی صحت تا دیر قائم نہ رہ سکے گی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔