46۔ پھر (جیسے جیسے سورج بلند ہوتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو آہستہ آہستہ [58] اپنی طرف سمیٹتے جاتے ہیں۔
[58] اللہ تعالیٰ سایوں کو پھیلاؤ سے سمیٹتا ہے تو بھی آہستہ آہستہ بتدریج سمیٹتا ہے اور سایوں کا پورا سمٹ جانا عین نصف النہار کے وقت ہوتا ہے یا سر پر ہوتا ہے جبکہ زاویہ قائمہ بن جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد سائے آہستہ آہستہ اور بتدریج بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس تدریج میں بہت سے فوائد مضمر ہیں اور دنیا میں جو بھی تغیر واقع ہوتا ہے اس میں تدریج کا قانون کام کرتا ہے۔ اگر یہ تدریج کا قانون نہ ہوتا تو ہر جاندار کے لئے زندگی دو بھر ہو جاتی مثلاً سورج طلوع ہوتے ہی اتنی شدید گرمی ہوتی جیسے دوپہر کو ہوتی ہے اور یہ گرمی سورج غروب ہونے تک بدستور اتنی ہی تیزی سے رہتی پھر غروب ہونے پر یک لخت سردی ہو جاتی تو یہ چیز بھی ہر جاندار کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔