ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 46

ثُمَّ قَبَضۡنٰہُ اِلَیۡنَا قَبۡضًا یَّسِیۡرًا ﴿۴۶﴾
پھر ہم نے اسے اپنی طرف سمیٹ لیا، تھوڑا تھوڑا سمیٹنا۔ En
پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں
En
پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ پھر (جیسے جیسے سورج بلند ہوتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو آہستہ آہستہ [58] اپنی طرف سمیٹتے جاتے ہیں۔
[58] اللہ تعالیٰ سایوں کو پھیلاؤ سے سمیٹتا ہے تو بھی آہستہ آہستہ بتدریج سمیٹتا ہے اور سایوں کا پورا سمٹ جانا عین نصف النہار کے وقت ہوتا ہے یا سر پر ہوتا ہے جبکہ زاویہ قائمہ بن جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد سائے آہستہ آہستہ اور بتدریج بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس تدریج میں بہت سے فوائد مضمر ہیں اور دنیا میں جو بھی تغیر واقع ہوتا ہے اس میں تدریج کا قانون کام کرتا ہے۔ اگر یہ تدریج کا قانون نہ ہوتا تو ہر جاندار کے لئے زندگی دو بھر ہو جاتی مثلاً سورج طلوع ہوتے ہی اتنی شدید گرمی ہوتی جیسے دوپہر کو ہوتی ہے اور یہ گرمی سورج غروب ہونے تک بدستور اتنی ہی تیزی سے رہتی پھر غروب ہونے پر یک لخت سردی ہو جاتی تو یہ چیز بھی ہر جاندار کے لئے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔