کیا تو نے اپنے رب کو نہیں دیکھا، اس نے کس طرح سائے کو پھیلا دیا اور اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلالت کرنے والا بنایا۔
En
بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر (کے پھیلا) دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو (بےحرکت) ٹھیرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے
45۔ آپ دیکھتے نہیں کہ تمہارا پروردگار! کسی طرح سایہ پھیلا دیتا ہے اگر وہ چاہتا تو اسے وہیں ساکن ہی رہنے دیتا پھر ہم نے سورج [57] کو اس پر رہنمائی کرنے والا بنا دیا۔
[57] سایوں کے بتدریج گھٹنے بڑھنے کے خوشگوار اثرات :۔
سایوں کا سورج سے گہرا تعلق ہے۔ طبعی اصول یہ ہے کہ روشنی کی شعاعیں یا کرنیں ہمیشہ صراط مستقیم میں سفر کرتی ہیں۔ اس لحاظ سے جہاں بھی روشنی ہو گی چیزوں کا سایہ ہو گا۔ اب اگر کسی چیز کا سایہ روشن چیز سے کم درجہ پر واقع ہو گا تو سایہ لمبا ہو گا اور زاویہ بڑھتا جائے گا تو سایہ چھوٹا ہوتا جائے گا۔ حتیٰ کہ اگر یہ سایہ 90 درجہ پر پہنچ جائے تو ہر چیز کا سایہ اس کے قدموں پر پڑے گا اور بہت چھوٹا رہ جائے گا۔ حتیٰ کہ یہ غائب بھی ہو سکتا ہے۔ اب چونکہ روشنی کا مستقل۔۔۔۔ با اعتماد اور منظم منبع یہی سورج ہی ہے۔ لہٰذا ا سایوں کے مستقبل منبع کا ذکر کیا اور یہ ذکر اس لحاظ سے بھی ضروری ہے کہ ہر قسم کی نباتات اور تمام جاندار اشیاء کی تربیت اور نشو و نما پر اثر انداز ہونے کی چیز سورج کی روشنی یا دھوپ اور سایہ ہی ہوتا ہے اب اگر کسی چیز پر ہمیشہ دھوپ پڑتی رہے یا کوئی چیز ہمیشہ سایہ میں رہے تو اس کی تربیت اور نشو و نما کبھی درست طور پر نہ ہو سکے گی۔ دھوپ اور سایہ دونوں ہی اللہ کی نعمتیں ہیں اور دونوں سے ہر چیز کی زندگی کا گہرا تعلق ہے۔ اگر ہمیشہ سایہ ہی رہتا تو زندگی کی یہ بہاریں کبھی قائم نہ رہ سکیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔