ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ اَصۡحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوۡنًۢا بَیۡنَ ذٰلِکَ کَثِیۡرًا ﴿۳۸﴾
اور عاد اور ثمود کو اور کنویں والوں کو اور اس کے درمیان بہت سے زمانے کے لوگوں کو بھی (ہلاک کر دیا)۔ En
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)
En
اور عادیوں اور ﺛمودیوں اور کنوئیں والوں کو اور ان کے درمیان کی بہت سی امتوں کو (ہلاک کردیا) En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ اور (اسی طرح) قوم عاد، قوم ثمود، کنوئیں والے [50] اور درمیانی پشتوں میں سے بہت سے لوگ (تباہ کر دیئے گئے۔
[50] اصحاب الرس کون ہیں؟
قوم عاد و ثمود کا ذکر تو قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہے مگر اصحاب الرس یا کنویں والوں کا ذکر صرف دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک اسی جگہ اور دوسری سورۃ ق کی آیت نمبر 12 میں۔ ان مقامات پر ان کا ذکر اس قدر مختصر ہے جس سے ان کے حالات پر کچھ روشنی نہیں پڑتی۔ نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ان کی طرف کون سا نبی مبعوث ہوا تھا۔ لغوی لحاظ سے رس بڑے کنوئیں کو کہتے ہیں۔ جس میں پانی وافر مقدار میں موجود ہو اسی وجہ سے اصحاب الرس کے بارے میں مفسرین میں کئی قسم کے اختلافات ہیں۔ زیادہ مشہور یہی بات ہے اس سے مراد اہل انطاکیہ ہیں۔ ان کی طرف حبیب نجار نبی مبعوث ہوئے تو انہوں نے انھیں جھٹلایا لیکن آپ بدستور انہیں اللہ کا پیغام پہنچاتے رہے۔ بالآخر ان لوگوں نے آپ کو مار کر کنوئیں میں ڈال دیا۔ اسی وجہ سے یہ اصحاب الرس کے لقب سے مشہور ہوئے پھر اللہ نے اس کنوئیں سمیت اس بستی کو زمین میں دھنسا دیا۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾