36۔ اور ان سے کہا: اس قوم کی طرف جاؤ، جنہوں نے ہماری آیات [47] کو جھٹلا دیا ہے بالآخر ہم نے انھیں تہس نہس کر دیا۔
[47] یہاں آیات سے مراد غالباً وہ وحی تھی جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام پر نازل ہوئی تھی کیونکہ حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ نے تو ان فرعونیوں کو ابھی اپنی طرف نازل شدہ کوئی وحی سنائی ہی نہ تھی۔ یا پھر آیت اللہ سے مراد کائنات میں ہر سو اللہ کی بکھری ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غور و فکر کرنے والے اللہ کی معرفت حاصل کر سکتے ہیں۔ اور فرعون ایسی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے خود ہی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔