34۔ ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف [45] لائے جائیں گے، ان کا ٹھکانا بہت برا ہے اور یہی سب سے زیادہ گمراہ ہیں۔
[45] یعنی کافروں کے اس قسم کے اعتراضات کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی عقلیں اوندھی ہو چکی ہیں۔ جو سیدھی سادی باتوں پر غور کرنے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہوتیں لہٰذا ا ہم قیامت کے دن اوندھے منہ جہنم کی طرف چلا کر لے جائیں گے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا:”یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن کافر اپنے منہ کے بل حشر کئے جائیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس پروردگار نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل نہیں چلا سکتا۔“ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔