31۔ اسی طرح (اے نبی)! ہم نے مجرموں کو [41] ہر نبی کا دشمن کا بنایا ہے اور آپ کا پروردگار رہنمائی کرنے اور مدد دینے کو کافی [42] ہے۔
[41] یعنی نبی کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ رسول کی اطاعت کریں۔ اب جو لوگ پہلے سے مطاع بنے بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ بھلا یہ کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ جو لوگ پہلے ان کے فرمانبردار و اطاعت گزار تھے وہ انہیں چھوڑ کر یا ان کے ساتھ کسی دوسرے کی بھی اطاعت کرنے لگیں۔ بالفاظ دیگر معاشرہ کے آسودہ حال لوگ یا ایسے لوگ جن کا عوام پر کسی نہ کسی طرح کا اثر اور بالا دستی ہوتی ہے اس نبی کو اپنا رقیب سمجھ کر اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے ہی مجرموں کا ذکر قرآن نے بعض مقامات پر مترفین کے لفظ سے کیا ہے اور بعض مقامات پر ملأ کے لفظ سے اور چونکہ ایسے لوگوں کی تعداد کافی ہوتی ہے۔ لہٰذا نبی کی دعوت دراصل بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف ہوتی ہے۔ دعوت کے آغاز میں ہی معرکہ حق و باطل شروع ہو جاتا ہے اور دنیا کے یہ خونخوار کتے سینہ تان کر نبی کے مقابلہ میں آن کھڑے ہوتے ہیں۔ [42] یعنی اس معرکہ حق و باطل میں حالات جونسا رخ اختیار کرتے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے نبی اور اس کے پیروکاروں کو ہدایات بھی دیتا جاتا ہے کہ اب انہیں یوں کرنا چاہئے اور اس سے اگلا قدم اس طرح اٹھنا چاہئے پھر وہ صرف ہدایات اور احکام پر ہی اکتفا نہیں کرتا۔ بلکہ ان کافروں کی طاقتور جماعت کے مقابلہ میں ایمانداروں کی مدد بھی فرماتا ہے اور ایسے طریقوں سے مدد فرماتا ہے جس کا پہلے سے مسلمانوں کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ کیونکہ تمام ظاہری اور باطنی اسباب اللہ تعالیٰ کی قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں۔ وہ حالات ہی ایسے پیدا کر دیتا ہے جو مسلمانوں کے حق میں مفید ہوتے ہیں اور کافروں کا کچومر نکال دیتے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ اطلاع دی کہ نبی کے دشمن پیدا ہوتے رہے ہیں ساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی کہ اللہ اپنے نبی اور اس پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو دشمنوں کے حوالے نہیں کر دیتا بلکہ انہیں بروقت ہدایات بھی دیتا اور پھر ان کی مدد بھی کرتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔