ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 29

لَقَدۡ اَضَلَّنِیۡ عَنِ الذِّکۡرِ بَعۡدَ اِذۡ جَآءَنِیۡ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِلۡاِنۡسَانِ خَذُوۡلًا ﴿۲۹﴾
بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔ En
اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے
En
اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراه کردیا کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ اس نے تو میرے پاس نصیحت آجانے کے بعد مجھے بہکا دیا اور شیطان تو انسان کو مصیبت پڑنے پر چھوڑ جانے [39] والا ہے۔
[39] خذول کا لغوی مفہوم :۔
خذول بمعنی کسی کی مدد نہ کرنا بلکہ مدد کے وقت ساتھ چھوڑ جانا اور خذول ایسے دوست کو کہتے ہیں جو زبانی تو دوستی کے بہت دعوے کرتا اور دم بھرتا ہو لیکن مصیبت کے وقت ساتھ چھوڑ کر چلا جائے۔ دغا دینے والا دوست۔ اور شیطان کے لئے یہ لفظ بالکل راس آتا ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ انسان کو سبز باغ دکھا کر اور خوشنما وعدے دے کر اسے گمراہ کرتا ہے۔ پھر مشکل وقت پڑنے پر دنیا میں بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے اور آخرت میں بھی وہ یہی کام کرے گا اور یہی خصلت شیطان کے دوستوں یا شیطان سیرت انسان کی بھی ہوتی ہے۔