ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 26

اَلۡمُلۡکُ یَوۡمَئِذِۣ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ؕ وَ کَانَ یَوۡمًا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ عَسِیۡرًا ﴿۲۶﴾
اس دن حقیقی بادشاہی رحمان کی ہوگی اور کافروں پر وہ بہت مشکل دن ہوگا۔ En
اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا
En
اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اس دن حقیقی بادشاہی [36] رحمٰن کی ہو گی اور یہ دن کافروں کے لئے [37] بڑا سخت دن ہو گا۔
[36] سیدنا ابراہیمؑ کو حشر میں سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا :۔
قیامت کے دن اللہ اکیلے کی فرمانبرداری اور بادشاہی ہو گی اور سب انسان بالکل برہنہ قبروں سے اٹھا کھڑے کئے جائیں گے چنانچہ حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ (قیامت کے دن) ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کئے جاؤ گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس طرح تو مرد اور عورت سب ایک دوسرے کے ستر کو دیکھیں گے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہؓ! قیامت کا معاملہ ایسے خیالوں سے شدید تر ہو گا۔ [بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب کیف الحشر]
اور ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا: تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن حشر کئے جاؤ گے۔ جیسے (اللہ تعالیٰ نے قرآن میں) فرمایا جس طرح تمہیں شروع میں پیدا کیا اسی طرح دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔ اور تمام مخلوق میں جسے سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیمؑ ہوں گے۔“ [بخاری۔ کتاب الرقاق۔ باب کیف الحشر]
اب دیکھئے جہاں یہ صورت حال ہو ہر کسی کو اپنی اپنی ہی پڑی ہو تو کسی کو بادشاہی کا خیال آ سکتا ہے اور دنیا کے بادشاہ تو اور بھی سخت حالت میں ہوں گے۔
[37] جس طرح مومن کے لئے قیامت کے دن کی مدت انتہائی مختصر اور آسان بنا دی جائے گی اتنی ہی کافر کے لئے یہ مدت طویل اور سخت تر ہو گی۔ کیونکہ دنیا میں بھی یہ چیز تجربہ شدہ ہے کہ مصیبت کے چند لمحات اتنے طویل تر اور شدید تر معلوم ہوتے ہیں جیسے کئی سالوں سے وہ یہ دکھ سہہ رہے ہیں۔