ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 22

یَوۡمَ یَرَوۡنَ الۡمَلٰٓئِکَۃَ لَا بُشۡرٰی یَوۡمَئِذٍ لِّلۡمُجۡرِمِیۡنَ وَ یَقُوۡلُوۡنَ حِجۡرًا مَّحۡجُوۡرًا ﴿۲۲﴾
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے خوشی کی کوئی خبر نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش! ہمارے اوران کے درمیان) ایک مضبوط آڑ ہو۔ En
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لئے (اور بند کردیئے) جاؤ
En
جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناه گاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کیے گئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں وہ دن [31] ایسے مجرموں کے لئے کوئی خوشی کا دن نہ ہو گا اور وہ پکار اٹھیں گے کہ ہم تو تم سے [32] پناہ مانگتے ہیں“
[31] ان کے فرشتوں کے دیکھنے کی تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ دو دنیا میں اور ایک آخرت میں۔ دنیا میں ایسے لوگ اس وقت فرشتوں کو بچشم خود دیکھ لیتے ہیں جب وہ ان پر قہر الہٰی اور عذاب الہٰی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ دوسرے اس وقت جب وہ ان کی جانیں نکالنے کے لئے ان کے پاس آئیں گے اور قیامت میں تو یہ ہر وقت ہی فرشتوں کو دیکھا کریں گے۔ جو بھی وقت اور جو بھی صورت ہو، ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہو گی بلکہ جب بھی وہ ان کے پاس آئیں گے قہر الہٰی بن کر ہی آئیں گے۔
[32] فرشتوں کو دیکھنے کی تین صورتیں :۔
یہ محاورہ ہے۔ حجارۃ بمعنی پتھر اور حجر ہر اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو پتھر کی طرح سخت بھی ہو اور روک یا آڑ کا کام بھی دے۔ اہل عرب کی عادت تھی کہ جب اپنے کسی دشمن کو، جس سے انہیں تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہوتا، دیکھ کر، یا کسی دوسری آفت کو دیکھ کر حجرا محجورا کہنے لگتے۔ جیسے ہم کہتے ہیں ”اس سے اللہ کی پناہ“ یا ”اللہ اس سے ہمیں بچائے“ تو سننے والا عموماً یہ قول سن کر تکلیف نہیں پہنچاتا تھا۔ ایسے مجرمین بھی جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے تو یہی الفاظ بول کر ان سے پناہ مانگیں گے لیکن اس دن انھیں کوئی پناہ نہ مل سکے گی۔