ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الفرقان (25) — آیت 12

اِذَا رَاَتۡہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿۱۲﴾
جب وہ انھیں دور جگہ سے دیکھے گی تو وہ اس کے لیے سخت غصے کی اور گدھے کی سی آواز سنیں گے۔ En
جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے
En
جب وه انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ اس کا غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

12۔ جب وہ دور سے انھیں (اپنے شکار کو) دیکھے گی تو یہ اس کے [16] جوش و خروش کی آوازیں خود ہی سن لیں گے
[16] ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے استیصال کے لئے ہم نے جہنم کی بھڑکتی آگ کو پہلے سے ہی تیار کر رکھا ہے جب وہ اپنا شکار دیکھے گی تو فوراً جوش میں آ جائے گی اور آگ کی لپٹوں کی تیزی و تندی کی وجہ سے اس میں سے کئی طرح کی غضبناک آوازیں اور پھنکاریں پیدا ہونے لگیں گی اور اس کی یہ آواز سن کر ایسے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کے جہنم میں داخل ہونے سے پہلے ہی پتے پانی ہو جائیں گے۔ اس آیت میں جہنم کے لئے دیکھنے کا فعل یا تو مجازاً استعمال ہوا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا گھر تو ایک عرصہ سے آپ کی راہ تک رہا ہے یا حقیقی معنوں میں بھی ہو سکتا ہے جسکا مطلب یہ ہوتا کہ جہنم کی آگ میں شعور بھی ہو گا اور جو کوئی جتنا زیادہ مجرم ہو گا، اسی قدر وہ اس پر بپھرے گی اور اسی قدر تندی سے اسے جلائے گی۔