ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ النور (24) — آیت 54

قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا عَلَیۡہِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیۡکُمۡ مَّا حُمِّلۡتُمۡ ؕ وَ اِنۡ تُطِیۡعُوۡہُ تَہۡتَدُوۡا ؕ وَ مَا عَلَی الرَّسُوۡلِ اِلَّا الۡبَلٰغُ الۡمُبِیۡنُ ﴿۵۴﴾
کہہ دے اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم پھر جاؤ تو اس کے ذمے صرف وہ ہے جو اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے اور تمھارے ذمے وہ جو تم پر بوجھ ڈالا گیا اور اگر اس کا حکم مانو گے تو ہدایت پاجاؤ گے اور رسول کے ذمے تو صاف پہنچا دینے کے سوا کچھ نہیں۔ En
کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو۔ اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا رستہ پالو گے اور رسول کے ذمے تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے
En
کہہ دیجیئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر ﻻزم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ آپ ان سے کہئے کہ ”اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو“ پھر اگر تم اطاعت نہیں کرو گے تو رسول کے ذمہ تو وہی کچھ ہے جس کا وہ مکلف ہے (یعنی تبلیغ کا) اور تمہارے ذمہ وہ کچھ ہے جس کے تم مکلف ہو (یعنی اطاعت کے) اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ صاف صاف [82] پیغام پہنچا دے۔
[82] یعنی رسول اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند ہے اور تم اپنی ذمہ داری کے۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہی ہے کہ وہ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دے اور وہ اس نے پوری کر دی۔ اور تمہارے ذمہ یہ بات ہے کہ تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جس میں تم پس و پیش کر رہے ہو۔ اور نری قسمیں کھا کھا کر ہی آئندہ کے لئے اطاعت کا یقین دلانا چاہ رہے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی عزت و آرام سے رہو گے اور آخرت میں کامیاب رہو گے۔ اور اگر ایسا نہ کرو گے تو اس میں رسول کا کچھ نقصان نہیں۔ تمہاری خباثتوں کا خمیازہ تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔